World
برطانیہ: لائف بوٹ رضاکار کو غلط شناخت پر آن لائن غدار قرار دینے کا معاملہ
برطانیہ میں لائف بوٹ کے ایک رضاکار کو تارکین وطن کی مبینہ مدد کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں بی بی سی کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اس رضاکار کی شناخت غلط فہمی کی بنیاد پر کی گئی تھی۔
برطانیہ کے ادارے رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (RNLI) کے ایک رضاکار کو حال ہی میں پورٹسموتھ میں ہونے والے احتجاج کے تناظر میں شدید آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس رضاکار کو سوشل میڈیا پر غلط طور پر ایک ایسے شخص کے طور پر شناخت کیا گیا جس نے مبینہ طور پر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکین وطن کی مدد کی تھی۔ اس غلط معلومات کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے اسے غدار جیسے سخت الفاظ سے نوازا گیا اور اس کی ذاتی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا گیا۔
بی بی سی کی فیکٹ چیک ٹیم 'بی بی سی ویریفائی' نے اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی اور حقائق کو سامنے لایا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دعوے سراسر بے بنیاد اور جھوٹے تھے۔ جس رضاکار کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، اس کا تارکین وطن کے اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، اور وہ محض اپنی معمول کی فلاحی خدمات انجام دے رہا تھا جو کہ لائف بوٹ کا بنیادی مقصد ہے۔
اس واقعے کے بعد تنظیم اور متاثرہ رضاکار کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کے تیزی سے پھیلنے کے رجحان پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر تصدیق کے کسی بھی فرد کو سوشل میڈیا پر مجرم یا غدار قرار دینا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ انسانی زندگیوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ آر این ایل آئی نے اپنے عملے کی سکیورٹی اور وقار کا دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ پولیس بھی اس معاملے میں آن لائن دھمکیاں دینے والے عناصر کی تلاش کر رہی ہے۔