World
ٹیٹ برادران کو امریکی جیل میں رکھنے کا حکم، ضمانت مسترد
برطانیہ حوالگی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے ٹیٹ برادران کو امریکی جج نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ جج کے مطابق ان کی بے پناہ دولت اور بین الاقوامی سفر کی کثرت انہیں مفرور ہونے کا بڑا خطرہ بناتی ہے۔
تنازعات کا شکار رہنے والے مشہور برطانوی-امریکی بھائیوں اینڈریو ٹیٹ اور ٹریسٹن ٹیٹ کو برطانیہ کے حوالے کیے جانے کے کیس کے دوران امریکی جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ ایک وفاقی جج نے دونوں بھائیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی ضمانت کی درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ دونوں بھائیوں کے خلاف جاری قانونی کارروائی کا ایک اہم موڑ مانا جا رہا ہے۔
عدالت کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اینڈریو ٹیٹ اور ٹریسٹن ٹیٹ کے پاس دوہری شہریت ہے اور ان کے پاس موجود بے پناہ دولت کے ساتھ ساتھ ان کا بین الاقوامی سفر کا وسیع ریکارڈ اس بات کا قوی امکان پیدا کرتا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے فرار ہو سکتے ہیں۔ امریکی جج نے اپنے ریمارکس میں ان کے طرزِ زندگی کو 'فرار ہونے کا واضح خطرہ' قرار دیا، جس کی بنیاد پر انہیں کسی بھی قسم کی ضمانت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا۔
برطانیہ کو حوالگی کے اس مقدمے میں دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں، تاہم تازہ ترین عدالتی حکم کے بعد ٹیٹ برادران کو اپنی قانونی جنگ اب حراست کے اندر سے ہی لڑنی ہوگی۔ اس فیصلے نے ان کے وکلاء کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ وہ اپنے موکلین کو مقدمے کی تیاری کے دوران جیل سے باہر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری جانب، برطانوی حکام بھی اس قانونی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ دونوں بھائیوں کو جلد از جلد قانون کا سامنا کرنے کے لیے برطانیہ منتقل کیا جا سکے۔