World
روسی انٹیلی جنس کی مدد کا الزام: برطانوی عدالت میں مقدمہ درج
برطانیہ میں ایک اکتیس سالہ شخص جوشوا کیمیج پر قومی سلامتی کے قانون کے تحت دو جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملزم جمعرات کو عدالت میں پیش ہو گا جہاں اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم کارروائی کے دوران اکتیس سالہ جوشوا کیمیج نامی شخص پر روسی انٹیلی جنس سروس کی مدد کرنے کے الزامات کے تحت باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس میں ملزم کو قومی سلامتی کے قانون کی دفعات کے تحت نامزد کیا گیا ہے، جو کہ حساس ملکی امور اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جوشوا کیمیج پر قومی سلامتی کے قانون کے تحت کل دو الگ الگ جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ برطانوی سکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس نے اس معاملے کی طویل عرصے تک تفتیش کی، جس کے بعد اب جا کر اس قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی کے خلاف ورزی یا کسی بھی غیر ملکی طاقت کے لیے جاسوسی کے شبے میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر انتہائی سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
متعلقہ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملزم جوشوا کیمیج جمعرات کے روز باقاعدہ طور پر مجسٹریٹ عدالت کے سامنے پیش ہوگا۔ عدالت میں اس کے خلاف عائد کردہ الزامات کی مزید سماعت کی جائے گی اور استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس مقدمے کو برطانوی ذرائع ابلاغ اور سکیورٹی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہ راست ملک کی اندرونی سلامتی اور خارجہ تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی کے قوانین کے تحت اس طرح کے مقدمات میں تفتیش کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہوتا ہے اور عدالت کی کارروائی بھی انتہائی سخت سکیورٹی حصار میں انجام دی جاتی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی اس پیشی کے بعد اس کیس کے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے اس بابت مزید تفصیلات عدالتی کارروائی کے بعد ہی جاری کی جائیں گی۔