LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی اور تنازعہ

News Image
اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان حالیہ سفارتی تعلقات میں کشیدگی نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین پیدا ہونے والے اس نئے تنازعے کے اسباب اور ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں تنازعہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے عالمی سطح پر سیاسی مبصرین کی توجہ مبذول کرا لی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی یہ کشیدگی کئی اہم پالیسی امور اور دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ حالیہ برسوں کے دوران دونوں روایتی اتحادیوں کے مابین سب سے بڑے سفارتی تنازعات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں حکومتوں کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی اس کے گہرے اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس تنازعے کے پس منظر میں کئی پیچیدہ سیاسی عوامل کارفرما ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض اقدامات اور پالیسی تبصروں پر اسرائیلی ردعمل کافی سخت رہا ہے، جس کی وجہ سے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں میں سرد مہری پیدا ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں جانب سے اعلیٰ سطح پر سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ باہمی تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے اور مزید تلخی کو روکا جا سکے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اسرائیل اس تنازعے کے جواب میں کون سے جوابی اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔ سفارتی حلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ بحران عارضی نوعیت کا ہے یا اس کے طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے آئندہ کے سیاسی رابطے اور اعلانات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ کشیدگی کس سمت میں جاتی ہے اور اس کا علاقائی اور عالمی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے۔