World
یمنی سفیر کا بیان: حوثی سعودی عرب کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں
یمن کے سفیر کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسند سعودی عرب کی سرزمین کو نشانہ بنا کر مملکت کو براہ راست تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔
قطر میں تعینات یمن کے سفیر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغی مسلسل ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جن کا مقصد سعودی عرب کو براہ راست اس تنازع میں گھسیٹنا ہے۔ ان کے مطابق سعودی سرزمین کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ خطے کا امن تباہ ہو اور ایک بڑی جنگ کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یمنی سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی ان خطرناک سازشوں کا فوری نوٹس لے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی اور سرحدی جھڑپیں خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں اور تنصیبات پر حملوں کی کوششوں نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ریاض اور اس کے اتحادی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی جارحیت کا موثر جواب دیا جا سکے۔
دوسری جانب سفارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ حوثیوں کے ان عزائم کو کیسے ناکام بنایا جائے۔ سعودی عرب نے ماضی میں بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ملکی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے وہ ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یمنی حکومت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ بڑھائے تاکہ وہ پڑوسی ممالک پر حملے بند کریں اور سیاسی حل کی طرف آئیں۔
خطے کے امن کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حوثیوں کی اس قسم کی کارروائیوں کا سدباب نہ کیا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یمن کے سفیر کا یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ صورتحال کتنی خطرناک ہے اور اس کے لیے فوری اور مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔