World
غزہ میں طبی آکسیجن کا بحران اور طبی سہولیات کی صورتحال
غزہ میں آکسیجن پیدا کرنے والے 34 میں سے صرف 12 پلانٹس اس وقت فعال ہیں۔ طبی آکسیجن کی قلت نے محاصرہ زدہ علاقے میں صحت کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید کشیدگی اور محاصرے کے باعث صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جہاں اب مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے انتہائی ضروری طبی آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس وقت غزہ بھر میں آکسیجن پیدا کرنے والے 34 میں سے محض 12 پلانٹس ہی کام کرنے کے قابل رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے اسپتالوں میں زیر علاج سنگین مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
طبی ماہرین اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آکسیجن کی یہ قلت اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبوں (ICU) اور نو مولود بچوں کے وارڈز کے لیے ایک تباہ کن صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث پہلے ہی سے مشکلات کا شکار اسپتال اب آکسیجن سلنڈرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے فرائض سر انجام دینے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری طور پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ کے اسپتالوں کے لیے آکسیجن، طبی سامان اور ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اگر اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں ہزاروں بیمار اور زخمی افراد کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ سکتی ہیں جو پہلے ہی سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔