LIVE
Loading Breaking News...

یمن کا معاشی بحران اور بچوں کی تعلیم پر اثرات

News Image
یمن میں جاری شدید معاشی بحران کی وجہ سے غریب خاندانوں کو تعلیم اور بقا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ لاکھوں بچوں کو مجبورا اسکول چھوڑ کر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرنا پڑ رہی ہے۔
یمن میں جاری بدترین معاشی بحران نے لاکھوں معصوم بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کی وجہ سے غریب خاندانوں کو دو وقت کی روٹی اور بچوں کی تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ والدین کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ اپنے بچوں کو قلم اور کتاب تھمانے کے بجائے فیکٹریوں، سڑکوں اور کارخانوں میں مزدوری کے لیے بھیجیں۔ اس سنگین صورتحال کے باعث ملک بھر میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم یہ خاندان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں روزانہ کی کمائی ہی ان کے زندہ رہنے کا واحد سہارا ہے۔ تعلیم کے دروازے بند ہونے سے نہ صرف ان بچوں کا بچپن چھن رہا ہے بلکہ یمن کی آنے والی نسل کا تعلیمی مستقبل بھی تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور فلاحی تنظیموں نے یمن کے تعلیمی اور معاشی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد اور بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو ایک پوری نسل ناخواندگی کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ یمن کے معاشی حالات نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور حکومت یا بین الاقوامی برادری کی جانب سے موثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔