LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی بچی اسرائیلی محاصرے کے باعث اسکول جانے سے محروم

News Image
چار سالہ کندہ حسن اسرائیلی آباد کاروں کے جاری ماہانہ محاصرے کی وجہ سے اپنی اسکول کی زندگی کے پہلے دن کا آغاز نہیں کر سکی۔ اس واقعے نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی بچوں کو درپیش تعلیمی اور انسانی مشکلات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی عوام کو روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن میں تعلیم کا حصول بھی اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حالیہ واقعے کے مطابق، چار سالہ کندہ حسن اسرائیلی آباد کاروں کے ایک ماہ سے جاری مسلسل محاصرے کی وجہ سے اپنے تعلیمی سال کے پہلے دن اسکول جانے سے محروم رہ گئی ہے۔ اس معصوم بچی کی تعلیمی زندگی کا آغاز اس کٹھن صورتحال کی نذر ہو گیا جس نے نہ صرف اس کے خاندان کو بلکہ پورے خطے کے امن پسند افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، علاقے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مسلط کردہ اس طویل محاصرے نے عام شہریوں کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔ اس بندش کی وجہ سے بچوں کے تعلیمی ادارے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، اور ننھے طالب علم اپنے بنیادی حق یعنی تعلیم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ چار سالہ کندہ حسن بھی اسی ماحول کا شکار ہوئی ہے، جو اپنے نئے بیگ اور وردی کے ساتھ اسکول جانے کے لیے پرجوش تھی، مگر زمینی حقائق نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تعلیم جیسے بنیادی حقوق کو اس طرح کے محاصروں اور تنازعات میں یرغماض نہیں بنایا جانا چاہیے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مسلسل اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں اور فلسطینی بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ آئندہ نسلوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جا سکے۔