World
براڈ پیک حادثہ: لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا ریسکیو آپریشن جاری
گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑ براڈ پیک پر شدید برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے سات کوہ پیماؤں کی تلاش کا عمل ہفتے کی صبح دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ خراب موسم اور شدید برفباری کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گلگت: دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک برفانی تودے کے واقعے کے بعد لاپتہ ہونے والے سات کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن ہفتے کی صبح ایک بار پھر شروع کر دیا گیا۔ اس سے قبل جمعہ کی رات کو خراب موسمی حالات، شدید برفباری اور اندھیرے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا تھا۔ حکام کے مطابق جمعہ کے روز تین کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی گئی تھیں جن میں عمان کی نادیرہ احمد عبداللہ الحارثی، نیپال کے پور بہادر گرنگ اور امریکی کوہ پیما میلوری گیس شامل ہیں۔ ان لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں میں نیپال کے پانچ نامور کوہ پیما شامل ہیں جن میں نರ್ಮل پورجا، کلی پیمبا شیرپا، نیما شیرپا، ناوانگ تھندو شیرپا اور گیالو شیرپا کے نام بتائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سہیل سخی اور چین کے وانگ ژونگ بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں معروف کوہ پیما سرباز خان کی قیادت میں تین رکنی سول ریسکیو ٹیم زمینی مشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشاد نے تصدیق کی ہے کہ براڈ پیک پر امدادی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری ہیں اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز بھی اس سلسلے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کلب کے سیکرٹری جنرل ایاز شگری کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے ڈرون فوٹیج کی مدد سے 6 ہزار میٹر کی بلندی پر مزید کوہ پیماؤں کی موجودگی کا سراغ لگایا ہے۔ تاہم، مشکل پہاڑی خطہ، برفانی تودے گرنے کے مسلسل خطرات اور شدید سردی ریسکیو کارکنوں کے راستے میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ نیپالی میڈیا کے مطابق، نامور نیپالی کوہ پیما منگما ڈیوڈ شیرپا بھی نರ್ಮل پورجا اور دیگر لاپتہ ساتھیوں کی تلاش میں مدد کے لیے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔
یہ افسوسناک حادثہ جمعرات کے روز اس وقت پیش آیا جب کوہ پیماؤں کا دس رکنی گروپ 8,047 میٹر بلند براڈ پیک چوٹی کو سر کرنے کی مہم پر روانہ تھا اور وہ تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر موجود تھا۔ حکام کے مطابق، ٹیم کا آخری بار جمعرات کی صبح رابطہ ہوا تھا جس کے بعد شام کے وقت اس طاقتور برفانی تودے کے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ الپائن کلب کی نیلا کیانی کے مطابق، ٹریکنگ ڈیوائسز سے موصول ہونے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ تودہ گرنے کے باعث کوہ پیماؤں کو سینکڑوں میٹر نیچے پہاڑ کی ڈھلان پر پھینک دیا گیا تھا۔ پاکستانی اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں تمام تر ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے کوشاں ہیں۔