LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ، نوٹیفیکیشن جاری

News Image
حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ کے تناظر میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا اطلاق جمعرات سے ہو گیا۔ نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 367.75 روپے اور ڈیزل 392.67 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
وفاقی حکومت نے بدھ کے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق قیمتوں میں اس ردوبدل کے بعد اب پیٹرول کی نئی پرچون قیمت 367.75 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 392.67 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ ان نئی قیمتوں کا باضابطہ اطلاق جمعرات نو ستمبر سے کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹیز کی شرح بدستور 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عالمی مارکیٹ میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار اختیار کیا تھا جس کے تحت اوگرا کو بین الاقوامی مارکیٹ کے رحجانات کے مطابق قیمتیں طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ پیٹرول عام طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی ملک بھر میں گہرے اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ بھاری نقل و حمل کے شعبے، مال بردار ٹرکوں، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں سب سے بڑے ریونیو جنریٹر ہیں جن کی ماہانہ فروخت سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جو کہ مٹی کے تیل کی محض دس ہزار ٹن ماہانہ طلب کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدامات ملکی معاشی استحکام اور ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔