LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ٹیکس ریٹرن اور تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم

News Image
فیڈرل بورڈ آف ریوینو نے ملک بھر کے تاجروں اور دکان داروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرائی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس نے چھوٹی سطح کے تاجروں کے لیے اس آسان ٹیکس نظام کا خیرمقدم کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کی جانب سے ملک میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک کے سرکردہ میڈیا اداروں بشمول بزنس ریکارڈر، ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور دی نیوز میں یہ اہم موضوع زیر بحث رہا ہے کہ پاکستان میں عام شہری اور کاروباری طبقہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی زحمت کیوں گوارہ کرے۔ اس حوالے سے تاجروں اور دکان داروں کے لیے ایک نئی اور آسان فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی ہے تاکہ وہ پیچیدہ طریقہ کار سے بچ سکیں۔ اس نئی سکیم کے تحت ایف بی آر چھوٹے تاجروں کو اس بات کی ترغیب دے رہا ہے کہ وہ اس simplified ٹیکس فائلنگ کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی ٹیکس کی بنیاد مضبوط ہوگی بلکہ تاجروں کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر قانونی تحفظ اور سہولتیں میسر آئیں گی۔ کئی کاروباری حلقوں کی جانب سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے تاہم بنیادی طور پر اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر نے بھی ایف بی آر کی اس فکسڈ ٹیکس سکیم کا خیرمقدم کیا ہے جو کہ چھوٹے تاجروں کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاجر برادری ہمیشہ سے ایک ایسے آسان نظام کی خواہاں رہی ہے جس میں ٹیکس کے معاملات کو الجھن کے بغیر حل کیا جا سکے۔ چیمبر کے عہدیداروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان مسلسل بات چیت کے ذریعے ہی ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ ملک کو موجودہ معاشی چیلنجز سے نکالا جا سکے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاحات کا یہ سفر طویل ضرور ہے لیکن ناگزیر ہے۔ جب تک تاجر برادری اور عام شہری ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو اپنی قومی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے، ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ایف بی آر کی فکسڈ ٹیکس سکیم اس سمت میں ایک اور قدم ہے، اور یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس سے کتنے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور معیشت پر اس کے کتنے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔