LIVE
Loading Breaking News...

انٹروپک سیکیورٹی محقق کا استعفا اور اے آئی کے خطرات

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انٹروپک کے ایک سیکیورٹی محقق نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ انہوں نے سلیک پر اپنے ساتھیوں کو اے آئی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی نامور کمپنی انٹروپک (Anthropic) کے ایک سیکیورٹی محقق نے اپنے منصب سے استعفا دے دیا ہے۔ استعفا دینے سے قبل انہوں نے کمپنی کے اندرونی مواصلاتی پلیٹ فارم سلیک (Slack) پر ایک الوداعی پیغام چھوڑا، جس میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کی رفتار سے جڑے ہوئے سنگین خطرات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام نے ایک بار پھر ٹیک دنیا میں یہ بحث شروع کر دی ہے کہ کیا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانیت کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ محقق کا یہ پیغام اور استعفا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔ اس خبر کے وائرل ہونے کے بعد واشنگٹن پوسٹ، این بی سی نیوز اور دیگر اہم عالمی میڈیا اداروں نے اس پر تفصیلی رپورٹس شائع کی ہیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اے آئی کے سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنا کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خود ان کمپنیوں کے اندر کام کرنے والے ماہرین بھی اے آئی کے مستقبل کو لے کر شدید فکرمند ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا اور ٹیک حلقوں میں مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی اور حفاظتی اقدامات پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ کمرشل فوائد کے حصول کے لیے اے آئی کی ترقی میں حفاظتی اصولوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے، جو طویل المدت بنیادوں پر انسانی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انٹروپک کے سابق محقق کا یہ تنبیہی پیغام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اے آئی انڈسٹری کو سخت ضابطوں کے تحت چلایا جائے تاکہ کسی بھی بڑے انسانی یا سماجی بحران سے بچا جا سکے۔