LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی پابندیوں اور امریکی ردعمل کا تجزیہ

News Image
برطانیہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسلی تطہیر پر چشم پوشی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ اس معاملے پر امریکہ کا معتدل ردعمل دونوں اتحادیوں کے درمیان موجودہ سفارتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر امریکہ کا نسبتاً خاموش یا معتدل ردعمل بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ برطانوی حکومت نے کھل کر اسرائیل کی موجودہ حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کی مبینہ نسلی تطہیر پر دانستہ طور پر چشم پوشی سے کام لے رہی ہے، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سخت برطانوی موقف کے برعکس امریکی انتظامیہ کا ردعمل انتہائی نپا تلا اور مدہم رہا ہے، جسے مبصرین واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان روایتی اور گہرے اتحاد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس کا یہ محتاط رویہ دراصل اس گہری اور اندرونی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جو امریکی حکام کو اسرائیل کے موجودہ پالیسی سازوں کے ساتھ پیش آتے ہوئے محسوس ہو رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ بظاہر اسرائیل کے اقدامات پر کھل کر تنقید سے گریز کر رہی ہے تاکہ خطے میں مزید ابتری یا توازن نہ بگڑے، تاہم برطانوی اقدامات نے اس بات کو اجاگر کر دیا ہے کہ مغربی اتحادی اب اسرائیل کے روایتی رویے پر زیادہ دیر خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیا امریکہ بھی مستقبل میں ایسے سخت اقدامات کی حمایت کرے گا یا محض زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرے گا۔ دوسری جانب، اسرائیلی حکومت نے برطانوی پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔ اس سفارتی کھینچ تھانی نے خطے کے پہلے سے ہی کشیدہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جبری بیدخلی کے خلاف فوری، مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی کوئی صورت نکل سکے۔