World
ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل میں پیش
ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی میں ناکامی اور عدم تعمیل پر اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ تہران نے اس قرارداد کی شدید مذمت کرتے ہوئے تنصیبات پر حملوں کو ذمے دار قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عدم تعمیل کے معاملے کو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کر دیا۔ اس اہم فیصلے کے بعد عالمی سطح پر سفارتی تناؤ میں ایک بار پھر شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ فریقین کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے ایران کے متنازع اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تہران نے اس تازہ قرارداد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان کے حساس جوہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں اور جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے معائنہ کاروں کے امور بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل میں معاملہ لے جانے کا اقدام ناانصافی پر مبنی ہے اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی پیش رفت کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشمکش میں شدت آئے گی، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں اس معاملے پر آئندہ دنوں میں اہم بحث متوقع ہے جہاں تمام رکن ممالک اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔