LIVE
Loading Breaking News...

آی اے ای اے کی جانب سے ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کو ریفر

News Image
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آی اے ای اے) کے بورڈ نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق عدم تعمیل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس علامتی اقدام کا آغاز امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آی اے ای اے) کے گورننگ بورڈ نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام کے معاملے میں عدم تعمیل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انتہائی اہم سفارتی اور علامتی پیش رفت بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے تہران پر اپنے جوہری وعدوں کی مکمل پاسداری کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس قرارداد کی منظوری کے بعد مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔ اس علامتی کشیدگی اور سفارتی اقدام کا باقاعدہ آغاز چار اہم مغربی ممالک یعنی امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ انممالک کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسپکٹرز کے ساتھ تعاون کے معاملے میں مطلوبہ شفافیت نہیں دکھائی جا رہی، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ مغرب کا یہ اتحاد اس بات پر زور دے رہا ہے کہ عالمی امن اور عدم پھیلاؤ کے معاہدات کی پاسداری ہر ملک کے لیے یکساں طور پر لازمی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں اس معاملے کے جانے سے تہران پر مزید اقتصادی پابندیوں یا دباؤ کے نئے ادوار کا آغاز ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، سفارتی حلقے تاحال اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہونے چاہئیں اور مسئلے کا پرامن حل نکالا جانا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ ایران کے ردعمل کا بھی شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔