LIVE
Loading Breaking News...

یمنی سفیر کا انتباہ حوثی حملے اور باب المندب کی صورتحال

News Image
یمن کے سفیر نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اسٹریٹ میں حوثی حملے عالمی تجارت اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ ان حملوں کے تسلسل کی وجہ سے خطے میں ایک وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن کے سفیر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب کے اسٹریٹ اور بحیرہ احمر میں جاری حملے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی بحران پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ یہ صورتحال عالمی تجارت کو مفلوج کرنے کا باعث بن رہی ہے اور اگر ان حملوں کو روکا نہ گیا تو یہ ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے بین الاقوامی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے پر مسلسل حملوں کی وجہ سے سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ یمنی سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے تاکہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی طاقتیں اور اتحادی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کو روکا جا سکے۔ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ حوثی حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے، جس سے امن کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ یمنی سفیر کا یہ تازہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اگر فریقین کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ عالمی سلامتی کے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر سفارتی اور عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔