LIVE
Loading Breaking News...

عراق میں بے روزگاری کا بحران اور طبی گریجویٹس کا احتجاج

News Image
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک ہزار سے زائد طبی اور صحت کے شعبے سے فارغ التحصیل نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بے روزگاری کے سنگین بحران کے خلاف طبی اور صحت کے شعبے سے فارغ التحصیل ایک ہزار سے زائد نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ حکومت سے یہ تھا کہ انہیں فوری طور پر سرکاری شعبے میں ملازمتیں فراہم کی جائیں تاکہ ان کے کیریئر کا آغاز ہو سکے اور ملک میں طبی خدمات کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ مظاہرے کے دوران شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔ نوجوان گریجویٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے برسوں کی محنت کے بعد طبی اور صحت کے شعبے میں ڈگریاں حاصل کی ہیں، لیکن ملک میں نوکریوں کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور فوری طور پر خالی اسامیوں پر بھرتیاں شروع کی جائیں۔ عراق میں بے روزگاری طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، اور خاص طور پر نوجوان نسل اس سے شدید متاثر ہے۔ اگرچہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معاشی استحکام لانے میں حکومتی پالیسیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ سیاسی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ طبی شعبے کے گریجویٹس کا یہ احتجاج حکومتی اداروں پر دباؤ بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے تاکہ وہ فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ واضح رہے کہ طبی عملے کی کمی کے باوجود گریجویٹس کو نوکریوں کا نہ ملنا ایک تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عراقی حکومت اس احتجاج کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور کیا ان نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے کوئی ہنگامی پیکج کا اعلان کیا جاتا ہے یا نہیں۔