LIVE
Loading Breaking News...

ایف اے ٹی ایف کی آن لائن گیمنگ اور جوا بازی کے بڑھتے خطرات پر وارننگ

News Image
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آن لائن گیمنگ اور جوا بازی کے ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے نے دنیا بھر کے ممالک کو اس غیر قانونی رجحان سے نمٹنے کے لیے نئے رسک انڈیکیٹرز اور عملی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
پیرس میں قائم عالمی نگران ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی آن لائن گیمنگ اور جوا بازی کی صنعتیں معیشتوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ادارے نے مختلف ممالک کے ساتھ نئے رسک انڈیکیٹرز کا اشتراک کیا ہے تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جرائم کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تقریباً اسی دائرہ اختیار میں کیے گئے سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیسے جیسے گیمنگ اور جوا بازی کی خدمات ڈیجیٹل، کراس بارڈر اور باہم مربوط ہو رہی ہیں، ان کے ذریعے مالیاتی جرائم کے نئے راستے بھی کھل رہے ہیں۔ ادارے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ جوئے کے پلیٹ فارمز اب ایک وسیع تر مالیاتی ماحولیاتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں جن میں سے کئی عناصر قومی ضابطہ کار کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی جوا مارکیٹیں کئی خطوں میں قانونی منڈیوں کے برابر یا ان سے بھی بڑی ہو چکی ہیں۔ غیر قانونی اور بغیر لائسنس کے چلنے والے آف شور آپریٹرز اکثر خود کو جائز کاروبار کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ وہ صارفین اور مجرم عناصر دونوں کو گمنامی اور پرکشش مراعات فراہم کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے آن لائن پلیٹ فارمز کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے، جہاں ای والٹس، موبائل منی اور ورچوئل اثاثوں کے ذریعے تیز رفتار اور گمنام لین دین ممکن بنایا جا رہا ہے۔ مجرم عناصر ان پلیٹ فارمز کا استعمال فنڈز کی منتقلی کے لیے اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اصل میں جوا کھیلے بغیر ہی رقوم منتقل کر دیتے ہیں، یا پھر حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے چھوٹے چھوٹے متعدد لین دین یعنی 'سرفنگ' کا سہارا لیتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورکس، کرپشن، سائبر فراڈ اور پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے لیے ان پلیٹ فارمز کا بھرپور استحصال کر رہے ہیں۔ پلیٹ فارمز کی مالکانہ ساخت اور حصص کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ ریگولیٹری چیکس اور ضابطوں سے بچ نکلیں۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر جائلز تھامسن نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان خطرات کا سنجیدہ نوٹس لیں اور خطرے کی بنیاد پر مؤثر حکمت عملی اپنائیں، جس میں نگرانی کو سخت بنانا، غیر قانونی آپریٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔ نئے رسک انڈیکیٹرز کا مقصد ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکوک سرگرمیوں کی بروقت شناخت اور ان کی روک تھام میں مدد فراہم کرنا ہے۔