World
یمن تنازع: حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی حملوں کا دعویٰ
یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے متعدد علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ یہ تازہ کشیدگی خطے میں جاری وسیع تر کشمکش اور بحیرہ احمر کے قریب شدید جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگ کے پس منظر میں یمن کا یہ پرانا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر چکا ہے، اور بحیرہ احمر کے قریب جاری جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق چالیس سے زائد حملوں میں تعز اور الحدیدہ سمیت کئی حساس اور اہم علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ یہ تازہ ترین کارروائیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تیل تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی تھی اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ مشرق وسطیٰ کی اس جنگ نے خلیجی ممالک اور توانائی کے شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب کے قریب علاقہ پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے بعد شروع ہونے والی اس تازہ جنگ میں اب تک پان ستمبر کے بعد سے پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ باغیوں کا مقصد تیل کی برآمدات اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنا ہے۔ دوسری جانب، سعودی عرب کے سرکاری ذرائع نے فوری طور پر ان تازہ حملوں پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم ملک کے مختلف حصوں اور جنوبی علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ سعودی حکام نے پہلے ہی تفتھیش کے بعد سخت ردعمل کا عزم ظاہر کیا تھا کیونکہ ان حملوں کے باعث تیل تنصیبات کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔ بین الاقوامی برادری، خصوصاً یورپی یونین نے حوثی باغیوں کے ان حملوں کو ایک خطرناک اور تشویشناک پیش رفت قرار دیا ہے اور فوری طور پر تمام عسکری کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے یمن ایک بار پھر دنیا کے بدترین انسانی بحران اور خونریز خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔