Pakistan
سندھ اسمبلی کا اہم قدم، یکجہتی کی قرارداد وفاق کو ارسال
سندھ اسمبلی نے ایک اہم قرارداد منظور کرکے وفاقی حکومت کو ارسال کردی ہے جس میں ملک بھر میں اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔ اس دوران صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے وفاقی وزراء کے بیانات پر شدید تنقید بھی کی گئی۔
سندھ کی صوبائی اسمبلی نے ایک اہم پیش رفت کے تحت قومی یکجہتی سے متعلق ایک قرارداد منظور کرکے باضابطہ طور پر وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ اس قرارداد کا مقصد ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ موجودہ ملکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اکائیاں متحد ہو کر کام کریں۔ اسمبلی کے اس اقدام کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف انتظامی اور سیاسی امور پر بحث جاری ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور دیگر رہنماؤں نے وفاقی وزراء کے حالیہ بیانات پر کڑے الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو کاروباری فورمز پر بیانات دینے کے بجائے پارلیمنٹ کا رخ کرنا چاہیے اور وہاں عوامی نمائندگان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ سیاسی رہنماؤں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل باہمی مشاورت میں ہے نہ کہ یکطرفہ فیصلوں میں، جس سے مزید سیاسی خلیج پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
علاوہ ازیں، صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کے حوالے سے بھی ایوان میں گرما گرم بحث ہوئی۔ پلاننگ منسٹر کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو کمزور کرنے یا صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز سے گریز کیا جائے۔ رہنماؤں کا یہ بھی ماننا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے حوالے سے ہونے والی بحث ملک میں مزید سیاسی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔
سندھ اسمبلی کی جانب سے بھیجی گئی یہ یکجہتی کی قرارداد وفاقی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر وفاق اور صوبے باہمی تعاون کی راہ پر گامزن نہیں ہوتے تو اس سے انتظامی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت اس قرارداد پر سنجیدہ غور کرے گی اور سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔