LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران جنگ وسطی مدتی انتخابات کے بعد ختم ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ وسطی مدتی انتخابات کے فورا بعد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اعلان کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے نئے سفارتی اور سیاسی لائحہ عمل کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عسکری تنازعہ ملک میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات کے فوراً بعد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کو سات ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اب امریکی صدر کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کی ممکنہ حتمی تاریخ یا وقت کا اشارہ دیا گیا ہے جس نے عالمی سطح پر سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک اہداف کو حاصل کرنے کے قریب ہے اور انتخابی عمل کے مکمل ہوتے ہی زمینی اور عسکری حالات میں نمایاں تبدیلی لائی جائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کا مقصد ملکی سیاست اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں رائے عامہ کو متاثر کرنا بھی ہو سکتا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام اس عسکری مہم جوئی کو طے شدہ اہداف سے جوڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور خطے کے ممالک اس بیان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ واقعی اس جنگ کو سمیٹنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کے مشرق وسطیٰ کی معیشت، تیل کی سپلائی لائنوں اور مجموعی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایرانی حکام کی طرف سے فی الحال اس تازہ ترین امریکی بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن جنگ کے طول پکڑنے سے خطے میں پہلے ہی عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ وسطی مدتی انتخابات امریکی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اور اس تنازعے کا انتخابی شیڈول کے ساتھ تعلق جوڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی سیاست خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انتخابات کے بعد واشنگٹن واقعی اس محاذ آرائی کو سمیٹنے میں کامیاب ہوتا ہے یا خطے میں کشیدگی کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔