LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک کا محقق مصنوعی ذہانت کے خطرات پر مستعفی

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتھروپک کے ایک محقق نے انتہائی خطرناک رفتار سے ترقی پانے والے سسٹمز کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ محقق کا کہنا ہے کہ بڑی اے آئی کمپنیاں سیلف امپروونگ سپر انٹیلی جنس کی دوڑ میں انسانیت کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف لیبارٹری انتھروپک کے ایک محقق نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ مستعفی ہونے والے محقق جیکب کوکسن کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں خطرناک رفتار سے سپر انٹیلی جنس کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں اور وہ انسانیت کی زندگیوں کے ساتھ براہِ راست جوا کھیل رہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انتھروپک جیسے ادارے سے کسی ملازم نے اے آئی سیفٹی کے خدشات پر کھل کر استعفیٰ دیا ہے۔ جیکب کوکسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تفصیلی بیان میں بتایا کہ انہوں نے اوپن اے آئی اور انتھروپک دونوں اداروں میں بطور پری ٹریننگ محقق تین سال گزارے ہیں، لیکن بدقسمتی سے دونوں میں سے کوئی بھی کمپنی ذمہ دارانہ رویہ نہیں اپنا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی بہت جلد ایسے سپر ہیومن سسٹمز میں تبدیل ہو جائے گی جو کسی بھی چیز کو ہیک کرنے، راتوں رات کسی بھی شعبے میں انقلاب برپا کرنے اور لامحدود طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیکب کوکسن نے مزید انکشاف کیا کہ اے آئی انڈسٹری کے اندرونی حلقوں میں اکثر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی دہائی کے آخر تک انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کے سامنے بظاہر محتاط زبان استعمال کی جاتی ہے لیکن نجی محافل میں سینیئر محققین اور ایگزیکٹوز بھی اس کے تباہ کن اثرات سے شدید خائف ہیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر وہ ان خطرات سے اتنے ہی آگاہ ہیں تو پھر اس ٹیکنالوجی پر کام کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ اوپن اے آئی میں بہت سوں نے اس کے تہذیبی اثرات کو اب تک پوری طرح نہیں سمجھا، جبکہ انتھروپک میں لوگ خطرات سے بخوبی واقف ہیں لیکن وہ اس دوڑ میں سب سے آگے رہنا چاہتے ہیں۔ اپنے اس استعفیٰ کے بعد، جیکب کوکسن نے دیگر اے آئی محققین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس اندھی دوڑ اور اس کے ممکنہ انجام پر گہرائی سے غور کریں۔ وہ ان ایک ہزار سے زائد محققین میں بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیلف امپروونگ ماڈلز کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری طور پر ضابطے اور بریک سسٹم وضع کریں۔