LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں وکیل کی لاش پراسرار حالت میں ملی

News Image
راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں ایک کار سے وکیل کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت ایڈوکیٹ ثناء اللہ ستی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے فرانزک ٹیم کو موقع پر طلب کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔
راولپنڈی کے جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ سے ایک وکیل کی پراسرار حالت میں لاش برآمد ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے قانونی حلقے اور شہر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا جہاں جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں کھڑی ایک کار کے اندر سے یہ لاش ملی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے ایک محرر نے سول لائنز پولیس کو صبح تقریباً ساڑھے نو بجے اس واقعے کی اطلاع دی تھی۔ متوفی وکیل کی شناخت ایڈوکیٹ ثناء اللہ ستی کے نام سے کی گئی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی ٹیم کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کیا تاکہ گاڑی اور لاش کے قریب سے تمام ضروری سائنسی شواہد محفوظ کیے جا सकें اور قتل یا طبعی موت کے شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ راولپنڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) طارق محبوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موت کی اصل وجہ کا تعین فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ پولیس تمام پہلوؤں سے اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ کوئی مجرمانہ کارروائی ہے یا کوئی اور معاملہ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری کے مہینے میں بھی جڑواں شہروں میں اس نوعیت کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جب اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں ایک ویران علاقے سے ایک اور وکیل کی لاش ملی تھی۔ اس وقت پولیس کو اطلاع راہگیروں نے دی تھی اور لاش کی پشت پر گولی کا نشان موجود تھا جس پر پولیس نے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ راولپنڈی کے تازہ واقعے کے بعد وکلاء برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔