Pakistan
کراچی صوبہ بنانے کی بحث اور سندھ کی تاریخ و سیاسی ردعمل
پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران کراچی یا سندھ کی تقسیم کے حوالے سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی جماعتیں، بالخصوص سندھ کے قوم پرست حلقے، اس مؤقف کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ خطے کی تاریخی اور نسلی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان میں انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر سیاسی منظر نامے پر نمایاں ہو چکی ہے، جس میں بالخصوص صوبہ سندھ کی تقسیم اور 'کراچی صوبے' کے خیالات نے سب سے زیادہ گرما گرمی پیدا کی ہے۔ اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے روایتی حکومتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور انتظامی یونٹس کی وکالت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو بہتر انداز میں چلانے اور زمینی فاصلے کم کرنے کے لیے نئے صوبے بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم، اس تجویز کے سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور مختلف آراء سامنے آئیں۔ سیاسی جماعتوں کا موقف اس معاملے پر منقسم رہا ہے، لیکن سب سے شدید ردعمل سندھ کے اندر سے آیا ہے جہاں کی صوبائی اسمبلی نے اس طرح کی کسی بھی کوشش کے خلاف واضح قرارداد منظور کی۔
سندھ میں اس قسم کے بیانات پر شدید غم و غصہ پائے جانے کی تاریخی وجوہات ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت سندھ پہلے ہی بمبئی سے علیحدگی کے بعد ایک مکمل صوبے کے طور پر کام کر رہا تھا اور یہاں کی عوام اپنی قدیم سندھ وادی کی تہذیبی شناخت کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی تھی۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد کراچی کو ملک کا دارالحکومت بنا دیا گیا اور اسے صوبائی دارالحکومت کے درجے سے ہٹا کر حیدرآباد کو یہ مقام دے دیا گیا، جس نے سندھی قوم پرستی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد 1955ء میں 'ون یونٹ' کے نفاذ نے رہی سہی کسر پوری کر دی، جس کے تحت مغربی پاکستان کو ایک ہی صوبے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف ملک بھر بالخصوص مشرقی پاکستان اور سندھ میں شدید احتجاجی تحریکیں اٹھیں، جو بالآخر 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے اور کراچی کو دوبارہ سندھ کا دارالحکومت بنانے پر منتج ہوئیں۔
1970ء کی دہائی سے سندھ دیگر صوبوں کی نسبت ایک منفرد سیاسی اور نسلی فضا کا حامل رہا ہے جہاں مختلف قوم پرست تحریکیں متحرک ہیں۔ سندھ کو پاکستان کا سب سے زیادہ نسلی طور پر منقسم صوبہ بھی سمجھا جاتا ہے جہاں ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست جماعتیں ہیں تو دوسری طرف ایم کیو ایم جیسی جماعتیں موجود ہیں۔ سندھ میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم، سندھی زبان کا نفاذ اور دیگر نسلی وسیاسی پالیسیوں پر ہمیشہ سے بحث جاری رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سندھ کی حدود میں تبدیلی یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کی جاتی ہے، تو یہ دراصل ایک پرانے زخم کو کریدنے کے مترادف ہوتا ہے اور عوام اسے اپنی نسلی و جغرافیائی شناخت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی جو کہ طویل عرصے سے سندھ میں اقتدار میں ہے، کے ساتھ ساتھ دیگر قوم پرست اور سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر متحرک ہیں۔ جہاں ایک طرف وفاقی سطح پر حکومتی امور کو بہتر بنانے کے لیے 'رائٹ سائزنگ' اور انتظامی بہتری کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف سندھ کے عوام اور سیاسی قیادت اس بات پر بضد ہیں کہ صوبے کی تاریخی حیثیت اور جغرافیائی حدود سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس تمام تنازع نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا کوئی بھی عمل ملک کی نسلی، لسانی اور تاریخی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا۔