Politics
سینیٹ کمیٹی: عابد شیر علی اور ایمل ولی خان میں تلخ کلامی
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی اور اے این پی کے سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین یہ تلخ کلامی اس وقت سامنے آئی جب کمیٹی کی کارروائی جاری تھی۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کے دوران سیاسی رہنماؤں کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان الفاظ کے تیکھے تیر چلے اور دونوں رہنماؤں کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق ماحول اس وقت گرما گرم ہو گیا جب کمیٹی کے ایجنڈے پر بات چیت جاری تھی اور دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پیش آیا جہاں مختلف امور پر غور کیا جا رہا تھا۔ اس موقع پر کمیٹی کے دیگر اراکین بھی موجود تھے جنہوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اجلاس میں بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو مناسب انداز میں بات کرنے کی تلقین کی، جس سے ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اس طرح کی تلخ کلامی اور نوک جھونک پارلیمانی تاریخ کا حصہ رہی ہے، تاہم اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور سیاسی محاذ آرائی کے تناظر میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اس قسم کے تبادلے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد کمیٹی کی کارروائی کو جاری رکھا گیا لیکن اس تلخ واقعے نے تمام شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔