Pakistan
پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر اہم بیان
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کی صورت میں پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی معاہدہ متحرک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں تنازعے کا طویل طول پکڑنا چاہتا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حوثی حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور کوئی براہ راست جارحیت ہوتی ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان موجود روایتی دفاعی معاہدہ متحرک ہو سکتا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاعی معاہدے کے تمام شرائط اور تقاضوں کا سختی سے پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ وزیر دفاع نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد خطے کے امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی بڑی جنگ یا تباہی سے گریز کی ضرورت ہے۔ انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ تنازعہ ختم نہ ہو بلکہ طول پکڑتا رہے۔ ان کا اشارہ تھا کہ کچھ طاقتیں مشرق وسطیٰ کے حالات کو مزید خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ خطے میں عدم استحکام برقرار رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی کوششیں کرے تاکہ ایک بڑی جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی دباؤ اور سنجیدہ مذاکرات کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی، کیونکہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور اس سے پوری عالمی معیشت اور خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت پاکستان تمام فریقین پر زور دیتی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔