LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی شہر ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے دنیا کے کمزور ترین شہر قرار

News Image
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی بڑے شہر ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کم ترین لچکدار شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ حیدرآباد، ملتان، لاہور اور کراچی اس فہرست میں نمایاں پوزیشنوں پر موجود ہیں۔
عالمی سطح پر جاری ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اہم شہر ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کم ترین لچکدار شہروں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں کو شدید موسمیاتی اثرات اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ناکافی حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی اور بین الاقوامی ماہرینِ ماحولیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کا شہر احمد آباد اس فہرست میں پہلے نمبر پر موجود ہے جو ماحولیاتی خطرات کے خلاف سب سے کم لچک رکھتا ہے۔ تاہم، فہرست میں پاکستانی شہروں کی بڑی تعداد بھی تشویشناک حد تک اوپر موجود ہے۔ پاکستان کی سطح پر بات کی جائے تو حیدرآباد اس عالمی فہرست میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے، جو اسے شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں لاتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر ملتان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات تیزی سے دیکھے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا ثقافتی اور معاشی حب کہلانے والا شہر لاہور پانچویں نمبر پر موجود ہے، جو فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے۔ ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز کراچی بھی اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر پایا گیا ہے، جہاں ہر سال مون سون کی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے ناکافی تیاری کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر موثر پالیسیاں تشکیل نہ دی گئیں اور اربن پلاننگ کو بہتر نہ کیا گیا تو مستقبل میں ان شہروں کے رہائشیوں کو سنگین نوعیت کے انسانی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس رپورٹ کو ایک انتباہ کے طور پر لینا چاہیے اور فوری طور پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔