LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی محقق کا اینتھروپک سے استعفیٰ، مصنوعی ذہانت پر شدید تنقید

News Image
مصنوعی ذہانت کے ایک معروف محقق نے حفاظتی خدشات اور پالیسیوں کے تنازع پر اے آئی کمپنی اینتھروپک سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ایک اہم محقق نے حفاظتی خدشات کی بنیاد پر معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔ مستعفی ہونے والے محقق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانیت کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور یہ سب کچھ محض ایک جؤے کی مانند ہے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور حفاظتیپہلوؤں پر بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کو کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ اینتھروپک جیسے ادارے جو دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی جدید ترین ماڈلز پر کام کر رہے ہیں، اب اندرونی کشمکش اور پالیسی کے اختلافات کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مستعفی محقق کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارے کے اندر سکیورٹی پروٹوکولز اور کمرشل مقاصد کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ مناسب حفاظتی انتظامات اور ضابطے طے نہ کیے گئے، تو اس کے نتائج آنے والے وقت میں پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے ٹیک انڈسٹری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر محققین اور ماہرین بھی اس معاملے پر کھل کر سامنے آئیں گے۔