LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں کام کی جگہ کی حفاظت کے لیے نیشنل او ایس ایچ فریم ورک کا نفاذ

News Image
پاکستان نے ملازمین کی فلاح و بہبود اور کام کی جگہوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے ایک جامع نیشنل او ایس ایچ فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر کے کارخانوں اور دفاتر میں بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی قوانین کا نفاذ یقینی بنانا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے ملک بھر کے تمام صنعتی اداروں، کارخانوں اور دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے اور جامع نیشنل او ایس ایچ فریم ورک (OSH Framework) کی تیاری اور نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد مزدوروں اور ملازمین کے لیے ایک محفوظ ترین کام کا ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ کام کی جگہوں پر ہونے والے حادثات اور پیشہ ورانہ بیماریوں میں نمایاں کمی لائی جا سکے اور بین الاقوامی لیبر کے معیار کو پورا کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق، اس نئے فریم ورک کے تحت تمام نجی اور سرکاری اداروں کو حفاظتی پروٹوکولز کی سختی سے پابندی کرنا ہوگی۔ فیکٹریوں اور صنعتوں میں حفاظتی آلات کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے گا جبکہ ملازمین کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، صنعتی معائنہ کے نظام کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف فوری قانونی کارعمل عمل میں لائی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فریم ورک سے نہ صرف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں صنعتی امن اور بہتر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی پذیرائی کے لیے بھی یہ انتہائی ضروری ہے کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق اور ان کی حفاظتی سہولیات کا عالمی معیار کے مطابق خیال رکھا جائے۔ حکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کا تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح رہے گا۔ متعلقہ محکمے اس فریم ورک کے حتمی مسودے پر کام کر رہے ہیں اور جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس کا باضابطہ نفاذ کر دیا جائے گا۔ اس قانون سازی سے ملک کے صنعتی شعبے میں ایک مثبت تبدیلی آنے کی توقع ہے، جس سے پاکستان کے محنت کش طبقے کو ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار روزگار کا ماحول میسر آئے گا۔