Pakistan
بلاول بھٹو کا محسن نقوی کو پارلیمنٹ میں آنے کا مطالبہ، نئے صوبوں پر بحث
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی امور پر کاروباری فورمز کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر بحث ہونی چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کاروباری فورمز پر بات کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کا رخ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں انتظامی امور، گورننس اور نئے صوبوں کے قیام جیسے سنجیدہ موضوعات پر فیصلے بند کمروں یا نجی مجالس میں نہیں بلکہ ایوانِ نمائندگان کے اندر ہونے چاہئیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہی وہ واحد آئینی ادارہ ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر ملکی مفاد میں فیصلے کرتی ہیں، اس لیے اہم ترین ملکی معاملات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسائل پر عوامی اور سیاسی سطح پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے، جسے حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمہ ناگزیر ہے۔ وزیر داخلہ کے گورننس کے نظام کو از سر نو ترتیب دینے کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتیں بھی اس معاملے پر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
ادھر سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبے کی وحدت اور سالمیت کے حق میں ایک اہم قرارداد وفاقی حکومت کو ارسال کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ سندھ کے انتظامی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، نئے صوبوں کی بحث آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا ایک بڑا مرکز بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے وفاق اور صوبوں کے تعلقات براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔