LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب پر حوثی حملے، پاکستان اور سعودی اتحاد کا ردعمل

News Image
حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل دوسرے روز بھی جنوبی سعودی عرب کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کے شہروں پر مسلسل دوسرے روز بھی حملے کیے گئے ہیں، جسے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایک اہم اور خطرناک وسعت قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی زیر قیادت اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں نے شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر امن و سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں عرب دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور دفاعی مبصرین نے اس صورتحال کو خطے کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس صورتحال پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ علاوہ ازیں، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں تاکہ مزید خون خرابے اور علاقائی بحران کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب، سعودی عسکری قیادت اور اتحادی افواج بھی حوثی حملوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کئی حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان حملوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یہ تنازعہ دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔