LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ سعودی عرب جوہری معاہدہ اور عالمی خدشات

News Image
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان متوقع جوہری معاہدے پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ سخت ضابطوں کے تحت طے پائے گا۔ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ ماضی کے روایتی معیارات پر پورا اترے گا یا اس میں نرمی برتی جائے گی۔
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ نیا معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے روایتی اور سخت ترین اصولوں کی پاسداری کرے گا یا پھر اس میں علاقائی ضروریات کے پیش نظر کچھ لچک دکھائی جائے گی۔ کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے مطابق اس معاملے پر مختلف زاویوں سے غور کیا جا رہا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جوہری ٹیکنالوجی کا فروغ ایک حساس موضوع ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایجنسی کو مزید سخت اور مؤثر اختیارات دینے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی معاہدے میں حفاظتی تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکی کانگریس کو بھی اس مجوزہ تعاون کے حوالے سے خطوط موصول ہو چکے ہیں جن میں معاہدے کی شرائط اور خدوخال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک ایک ایسے متوازن فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جو خطے میں توانائی کی ضروریات کو بھی پورا کرے اور سلامتی کے بین الاقوامی تقاضوں کو بھی پورا کرے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے حتمی مسودے اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار کے حوالے سے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں جن پر تمام بڑی عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔