LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارہ: خان الاحمر میں اسرائیلی بستیوں کا منصوبہ اور فلسطینی بحران

News Image
بی بی سی کے نمائندے نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے خان الاحمر کا دورہ کیا جہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس علاقے میں فلسطینی برادری کو شدید بے دخلی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
بی بی سی کی مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار لوسی ولیمسن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع فلسطینی کمیونٹی خان الاحمر کا خصوصی دورہ کیا ہے، جو کہ ایک ایسے حساس علاقے میں واقع ہے جسے اسرائیل نے مخصوص بستیوں کی توسیع کے لیے نامزد کر رکھا ہے۔ اس خطے کو جغرافیائی طور پر انتہائی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اسرائیلی دارالحکومت اور دیگر بستیوں کے درمیان واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے مقامی باشندے مسلسل دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح فلسطینی خاندان اپنی ہی زمینوں پر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خان الاحمر کے مقامی مکینوں کو طویل عرصے سے اسرائیلی حکام کی جانب سے جبری بے دخلی کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس علاقے کو نام نہاد 'ای ون' (E1) زون کا حصہ مانا جاتا ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے نئی بستیوں کی تعمیر اور وسعت کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے مقبوضہ مغربی کنارہ شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، جس سے مستقبل میں ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی باشندے اس فیصلے کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ خان الاحمر کے بالکل قریب ہی اسرائیلی بستی 'معالی ادومیم' (Maale Adumim) واقع ہے، جو اس علاقے میں اسرائیل کی مضبوط موجودگی کی عکاس ہے۔ ایک طرف جہاں اسرائیلی بستیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور جدید سہولیات سے آراستہ ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے ساتھ موجود فلسطینی گاؤں بنیادی سہولیات جیسے کہ پانی، بجلی اور پختہ سڑکوں سے بھی محروم ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا بھی ایک جنگ بن چکا ہے کیونکہ قابض انتظامیہ کی جانب سے تعمیرات پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، تاہم زمینی حقائق میں اب تک کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ خان الاحمر کے باسی اپنی زمین اور آبائی ثقافت کو بچانے کے لیے ہر ممکن مزاحمت کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی اس تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس انسانی المیے کو اجاگر کیا ہے جو مشرق وسطیٰ کے اس سلگتے ہوئے تنازع کا ایک اہم اور تکلیف دہ باب ہے۔