Business
بینکوں پر ٹیکس اور توانائی کے بلوں میں ریلیف، ٹریڈ یونینز کا مطالبہ
ٹی یو سی کے مطابق بینکوں پر سرچارج کی بحالی سے چار سالوں کے دوران نو ارب پاؤنڈز جمع کیے جا سکتے ہیں۔ اس رقم سے عام شہریوں کو مہنگائی کے دور میں بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔
برطانوی ٹریڈ یونینز کانگریس (ٹی یو سی) نے مطالبہ کیا ہے کہ بینکوں پر عائد کیے جانے والے سرچارج کو واپس بحال کیا جائے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عام شہریوں کے لیے توانائی کے بلوں میں کمی کی غرض سے استعمال کیا جا سکے۔ یونینز کی جانب سے پیش کردہ تخمینے کے مطابق اس اقدام سے چار سالوں کے اندر اندر تقریباً نو ارب پاؤنڈز کی خطیر رقم اکٹھی کی جا سکتی ہے، جو ملکی معیشت اور عوام کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ موجودہ دور میں جب مہنگائی کی لہر نے عام گھرانوں کی کمر توڑ رکھی ہے اور بجلی و گیس کے بل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، یونینز کی یہ تجویز انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ٹی یو سی کا مؤقف ہے کہ بینکوں اور بڑے مالیاتی اداروں کو اس بحران کے دوران اپنا منصفانہ حصہ دینا چاہیے تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف مل سکے۔ اس حوالے سے اینڈی برہم اور دیگر رہنماؤں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس پالیسی کو سنجیدگی سے زیر غور لائیں تاکہ عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کو کم کیا جا سکے۔ اقتصادی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اگر حکومت اس تجاویز پر عمل درآمد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف توانائی کے بلوں میں نمایاں کمی کی راہ ہموار ہوگی بلکہ حکومت کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم، مالیاتی شعبے کے کچھ حلقوں کی طرف سے اس سرچارج کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے جن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بینکنگ سیکٹر کی مسابقت اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، یونینز اور عوامی فلاحی تنظیمیں اس بات پر بضد ہیں کہ موجودہ حالات میں ترجیحات کا تعین عام آدمی کی فلاح کو سامنے رکھ کر ہی کیا جانا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس تجویز پر سیاسی اور معاشی حلقوں میں مزید بحث متوقع ہے کیونکہ توانائی کے بحران کا حل اس وقت ہر حکومت کی اولین ترجیح بنا ہوا ہے۔