Health
برطانوی جوڑے کے فرٹیلیٹی ٹریٹمنٹ اور ایمبریوز کا تنازع
برطانوی جوڑے نیٹ اور نِک فریزر ایڈورڈز کو قانون کی خامی کی وجہ سے اپنے قیمتی ایمبریوز ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قانون تبدیل کیا جائے تاکہ ڈونر کو رضامندی واپس لینے کی اجازت نہ ہو۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نیٹ فریزر ایڈورڈز اور ان کے شوہر نِک فریزر ایڈورڈز کو اس وقت ایک شدید جذباتی اور قانونی بحران کا سامنا ہے جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے قیمتی ایمبریوز کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اس جوڑے نے اولاد کی امید میں فرٹیلیٹی ٹریٹمنٹ پر 23,000 پاؤنڈز کی خطیر رقم خرچ کی تھی، لیکن موجودہ برطانوی قوانین کی وجہ سے ان کا یہ خواب اب ادھورا رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
موجودہ قانون کے تحت، فرٹیلیٹی کے عمل میں حصہ لینے والا کوئی بھی ڈونر یا فریق کسی بھی مرحلے پر اپنی رضامندی واپس لے سکتا ہے، چاہے ایمبریوز پہلے ہی تیار کیوں نہ کر لیے گئے ہوں۔ اس قانونی سقم کی وجہ سے فریزر ایڈورڈز جوڑے کو شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ان کے کیس میں بھی رضامندی کے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے ایمبریوز کو ضائع کیے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، متاثرہ جوڑے نے اب برطانوی حکومت اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فرسودہ قانون میں فوری طور پر تبدیلی لائیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایک بار جب ایمبریوز کامیابی کے ساتھ تیار کر لیے جائیں اور ان پر اتنا زیادہ مالی و جذباتی سرمایہ صرف کر دیا جائے، تو کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر اپنی رضامندی واپس لینے اور انہیں تباہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اس واقعے نے برطانیہ میں فرٹیلیٹی ٹریٹمنٹ اور ڈونر کے حقوق سے متعلق جاری بحث کو مزید گرما دیا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے حامی بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قانون کو زیادہ متوازن بنایا جانا چاہیے تاکہ علاج کروانے والے جوڑوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور اس طرح کے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے جو براہ راست خاندان بسانے کی امیدوں سے جڑے ہوئے ہیں۔