Technology
برطانیہ میں ہیلتھ کیئر AI کے لیے نئے قوانین کی ضرورت
برطانیہ کے محکمہ صحت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر نئے قوانین وضع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جلد ہی این ایچ ایس میں روزمرہ کے امور کا حصہ بن جائے گی۔
برطانیہ کے نگراں اداروں اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری طور پر نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی یہ جدید قسم تیزی سے طبی میدان میں اپنی جگہ بنا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے نظام میں روزمرہ کی بنیاد پر استعمال کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) کے چیف لارنس ٹیلن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے مضبوط اور واضح ضابطہ اخلاق کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے طریقوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، لیکن مریضوں کی حفاظت اور ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت قانونی چوکسی کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔
برطانوی حکومت اور طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ قوانین اتنے جامع نہیں ہیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ترین طبی آلات اور سسٹمز کی پوری طرح نگرانی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ واچ ڈاگ کی طرف سے قانون سازی میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کے فوائد سے بھرپور طریقے سے استفادہ کیا جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو مختلف شعبوں بالخصوص طب اور صحت میں متعارف کرانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانیہ اس میدان میں ایک اہم قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو روکتے ہوئے طبی شعبے میں اس کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔