World
امریکہ میں نایاب جنگلی حیات کے قوانین پر ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مقدمہ
امریکہ کی بیس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرلز نے وفاقی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ قانونی چارہ جوئی خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کو کمزور کرنے کے اقدام کے خلاف کی گئی ہے۔
امریکہ کی بیس ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرلز نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس متنازع فیصلے کے خلاف باقاعدہ قانونی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے تاریخی قوانین کو کمزور کیا گیا تھا۔ دائر کردہ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ قدم نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قانون کے بھی منافی ہے کیونکہ اس سے قیمتی جانوروں اور پودوں کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
مدعی ریاستوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکام نے قانون کے طے شدہ اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جن سے تجارتی اور صنعتی اداروں کو جنگلی علاقوں میں مداخلت کا آسان موقع مل گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکہ بھر میں ان نایاب انواع کے تحفظ کے لیے قائم کردہ قدرتی پناہ گاہیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں جنہیں بچانے کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے موثر کوششیں جاری تھیں۔ ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین میں اس غیر قانونی ردوبدل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
اس مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے تاکہ قدرتی ماحول اور نایاب حیات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ماہرینِ ماحولیات نے بھی ریاستوں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت قانونی چارہ جوئی نہ کی گئی تو امریکہ میں کئی اہم جانوروں کی نسلیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں۔ مقدمے کی سماعت آنے والے دنوں میں شروع ہوگی جس پر پوری دنیا کی ماحولیاتی تنظیموں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔