LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن کو مردم شماری سے نکالنے کی تجویز

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشستیں طے کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مردم شماری سے بعض قانونی اور غیر دستاویزی تارکین وطن کو باہر رکھنا ہے۔ اس اقدام سے امریکی سیاسی منظر نامے اور آئندہ کے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نو منتخب یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک اہم اور متنازع تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد بعض قانونی اور غیر دستاویزی تارکین وطن کو ملک کی باضابطہ مردم شماری سے خارج کرنا ہے۔ اس عمل سے امریکہ کے ایوانِ نمائندگان یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی نشستوں کی تقسیم کے عمل پر براہ راست اثر پڑے گا کیونکہ روایتی طور پر یہ نشستیں ہر دس سال بعد ہونے والی کل آبادی کی گنتی کی بنیاد پر مختص کی جاتی ہیں۔ اس نئی تجویز کے تحت گنتی کے عمل میں تبدیلی لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ مخصوص زمروں کے تارکین وطن کو کل آبادی کے اعداد و شمار میں شامل نہ کیا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قدم سے ملک کے کئی حصوں میں سیاسی اثر و رسوخ اور وفاقی فنڈنگ کی تقسیم بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، بالخصوص ان ریاستوں میں جہاں تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے۔ دوسری جانب اس تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مردم شماری کا مقصد صرف امریکی شہریوں اور مستقل قانونی باشندوں کی صحیح عکاسی کرنا ہونا چاہیے تاکہ اس کے نتائج سیاست اور قانون سازی میں زیادہ شفافیت لا سکیں۔ اس مسئلے پر امریکی قانونی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث چھڑ گئی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس تجویز کے خلاف عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ آئینی طور پر ہر فرد کی گنتی کا معاملہ ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تجویز کے نفاذ اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے مزید قانونی اور سیاسی پیش رفت متوقع ہے جو ملکی سیاست پر طویل مدتی اثرات چھوڑ سکتی ہے۔