LIVE
Loading Breaking News...

کرک میں پولیس پر حملہ: ایک اہلکار شہید، سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن

News Image
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر کے ملزمان کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس گشت کرنے والی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ ضلع پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے ترجمان شوکت خان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کرک کے علاقے شتکائی ڈیم کے قریب پیش آیا، جو کہ صابر آباد پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے۔ پولیس پارٹی معمول کے گشت پر مامور تھی کہ گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں کانسٹیبل زعفران نے جام شہادت نوش کیا جبکہ کانسٹیبل محمد امتیاز شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور شہید ہونے والے اہلکار کی لاش اور زخمی کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او عمران خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس حکام نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے ایک گینڈ سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔ اس کے علاوہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور حملہ آوروں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر اضافی فورس بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں ان دہشت گردوں کو جلد لایا جائے گا۔ دوسری جانب، سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک الگ کارروائی کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے ایک اغوا شدہ پولیس اہلکار اور ایک شہری کو بازیاب کرا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے قبضے میں تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران بازیاب کرایا۔ آپریشن کے دوران چار دہشت گرد بھی جہنم واصل کیے گئے۔ صوبے بھر میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ واقعات کے تناظر میں سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لگی دی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔