Health
گرمی چائے اور کافی کا استعمال اور کینسر کا خطرہ
طبی ماہرین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق انتہائی گرم چائے یا کافی کا استعمال خوراک کی نالی کے کینسر کا خطرہ تین گنا تک بڑھا سکتا ہے۔ گرم مشروبات پینے کے شوقین افراد کو اپنی اس عادت میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
مشروبات کے شوقین افراد کے لیے ایک تشویشناک طبی انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق انتہائی گرم چائے یا کافی کا استعمال انسانی صحت بالخصوص خوراک کی نالی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت زیادہ گرمی والی چائے یا کافی پینے سے خوراک کی نالی کے کینسر کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے بعد ڈاکٹروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے کھانے پینے کے معمولات میں احتیاط برتیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخص حد سے زیادہ گرم مشروب پیتا ہے تو اس سے خوراک کی نالی کے نازک خلیات شدید متاثر ہوتے ہیں۔ طویل عرصے تک مسلسل انتہائی گرم مائع کے گزرنے سے ان خلیات میں جلن اور سوزش پیدا ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ چائے اور کافی دنیا بھر میں شوق سے پی جانے والی اشیاء ہیں اور ان کے کچھ طبی فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا درجہ حرارت صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔محققین کا مشورہ ہے کہ چائے یا کافی کو ابالنے کے فوراً بعد پینے کے بجائے کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے تاکہ اس کا درجہ حرارت اعتدال میں آ جائے۔ معمولی سی احتیاط اور طرز زندگی میں یہ چھوٹی سی تبدیلی انسان کو کینسر جیسے خطرناک مرض سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ طبی ادارے اس حوالے سے مزید آگاہی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عامتہ الناس کو اس پوشیدہ خطرے سے بروقت خبردار کیا جا سکے۔