Pakistan
گل پلازہ آتشزدگی کیس، دفاعی وکیل کا پولیس پر سنگین الزام
گل پلازہ آتشزدگی کے معروف مقدمے میں عدالت کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دینے سے انکار کے بعد دفاعی فریق نے پولیس پر شدید تنقید کی ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس جان بوجھ کر ذمہ دار سرکاری اداروں کو قانونی کٹہرے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کراچی کے دل میں واقع تاریخی اور تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے حوالے سے قانونی جنگ میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کی استدعا مسترد کیے جانے کے بعد، متاثرین اور ملزمان کے دفاعی وکلاء نے پولیس پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ دفاعی فریق کا کہنا ہے کہ پولیس اس اہم مقدمے کی شفاف تحقیقات کرنے کے بجائے مخصوص سرکاری اداروں اور بااثر شخصیات کو بچانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے، تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے نہ آسکیں۔
عدالت میں ہونے والی حالیہ سماعت کے دوران دفاعی وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار صرف نجی افراد نہیں ہیں، بلکہ متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی بھی اس سانحے کی بنیادی وجہ ہے۔ وکلاء کا مؤقف تھا کہ فائر سیفٹی کے قوانین کی خلاف ورزی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے کے شواہد موجود ہیں، جنہیں پولیس جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل سے انکار کے بعد تحقیقاتی عمل کے شفاف ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
دوسری جانب سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے بھی گل پلازہ آتشزدگی کیس میں عدالتی کارروائی اور پولیس کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار اور اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیشن یا جے آئی ٹی کا قیام انتہائی ضروری تھا تاکہ مستقبل میں ایسے دردناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پولیس اس معاملے میں جانبدارانہ رویہ برقرار رکھتی ہے تو متاثرہ فریق اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔