World
ایران جنگ: اردن میں امریکی طیارے تباہ، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ ایران کے مبینہ حملوں کے نتیجے میں اردن میں امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑی پیشرفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے مبینہ طور پر کیے جانے والے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اردن میں واقع ایک اہم امریکی فضائی اڈے پر رات گئے ہونے والے میزائل حملوں کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے متعدد فوجی طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سی بی ایس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس کارروائی میں ایف پندرہ اور اے ٹین طرز کے لڑاکا طیارے زد میں آئے ہیں۔ اس حملے نے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کی سکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور واشنگٹن میں اعلیٰ سطح پر ہنگامی مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، آبنائے ہرمز کے قریب بھی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی عسکری کارروائیوں کے بعد خطے میں بحری و ہوائی نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اردن کے فضائی اڈوں پر ہونے والے ان حملوں نے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا خدشہ مزید بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ تاحال دونوں جانب سے جنگ بندی کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ تنازعہ کے مزید پھیلنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔