LIVE
Loading Breaking News...

نائن الیون کے 25 سال: نیویارک کے مسلمانوں کی بدلتی ہوئی زندگی

News Image
واہگہ اور نائن الیون کے المناک واقعات کے پچیس سال بعد، نیویارک کے مسلمان کمیونٹی نے اس شہر کے تبدیل شدہ اور نئے مناظر کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیق اور کتابوں میں اس طویل سفر کے دوران ہونے والی سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
واہگہ اور نائن الیون کے المناک واقعات کے پچیس برس بیت جانے کے بعد، نیویارک شہر میں بسنے والی مسلم کمیونٹی نے ایک طویل اور مشکل سفر طے کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران امریکی معاشرے میں مسلمانوں کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ان پر اب کتب، تحقیقی رپورٹس اور مضامین کی شکل میں کھل کر بات کی جا رہی ہے۔ مصنفہ روزینہ علی سمیت مختلف محققین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح واقعے کے فورا بعد نیویارک اور پورے امریکہ میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ہر لمحہ یہ احساس دلایا گیا کہ کوئی ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر اور رائس یونیورسٹی کی حالیہ رپورٹس سے بھی یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مذہبی تعصب کی فضا وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوئی ہے۔ پچیس سال قبل جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت تھی، اس میں اب کمی واقع ہوئی ہے اور نئی نسل کے مسلمانوں نے اس تبدیل شدہ ماحول میں اپنی شناخت کو زیادہ بہتر طریقے سے منوایا ہے۔ نیویارک جو کہ دنیا بھر کے مختلف ثقافتوں کا مرکز ہے، اب ایک ایسی جگہ بنتا جا رہا ہے جہاں مسلمان اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات کے ساتھ زیادہ پراعتماد انداز میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس طویل عرصے میں مسلم کمیونٹی نے نہ صرف خود کو حالات کے مطابق ڈھالا ہے بلکہ معاشرتی اور سیاسی میدان میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ تعلیمی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے ذریعے اسلامو فوبیا کے خلاف شعور بیدار کرنے کی کوششیں بھی رنگ لا رہی ہیں، جس سے معاشرے میں مکالمے کا دروازہ کھلا ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت سے چیلنجز باقی ہیں اور بعض مقامات پر تعصب کے اثرات موجود ہیں، تاہم مجموعی طور پر نیویارک کے مسلمان اس نئے اور تبدیل شدہ منظر نامے کا حصہ بن چکے ہیں اور اپنے مستقبل کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔