LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل طویل عرصے بعد سو ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گیا ہے جس سے عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کے شعبے میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب مشرق وسطیٰ میں ہونے والے تازہ ترین حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ خام تیل کی قیمت اس نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی، امریکی اور حوثی تنازعات اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات نے سپلائی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا یہ سلسلہ تھما نہیں تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کا اثر براہ راست عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑا ہے۔ وال اسٹریٹ اور دیگر بڑی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ امریکی مارکیٹ میں ڈاؤ جونز انڈیکس میں چار سو پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ مسلسل تیسرے روز کی گراوٹ ہے۔ بلند شرح سود اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے دنیا بھر کے کاروباری حلقے فکر مند ہیں۔ حکومتیں اور معاشی ادارے اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے، تاہم آنے والے دنوں میں مہنگائی میں اضافے اور ایندھن کی قیمتیں بڑھنے کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔