AI
مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرہ، ماہرین کی وارننگ اور اہم استعفے
برطانوی اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے محققین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دہائی میں اے آئی ٹیکنالوجی انسانی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اس تشویش کے بعد کئی اہم اداروں میں کام کرنے والے ماہرین نے اپنے عہدوں سے استعفے بھی دینا شروع کر دیے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی جہاں ایک طرف انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہے، وہیں دوسری طرف دنیا بھر کے سائنسدانوں اور محققین نے اس کے تباہ کن اثرات کے بارے میں ہنگامہ خیز انتباہات جاری کیے ہیں۔ معروف عالمی اخبارات اور نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے صرف دس سالوں میں یعنی 2030 تک تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس انتہائی سنگین دعوے نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ قانون سازوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس تشویش کی ایک بڑی مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی 'انتھروپک' (Anthropic) کے ایک اہم محقق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس محقق کا مؤقف تھا کہ موجودہ اے آئی لیبارٹریاں اور کمپنیاں انسانی زندگیوں کے ساتھ خطرناک جوا کھیل رہی ہیں اور وہ اس اندھے دھند دوڑ کا حصہ مزید نہیں بن سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا دس فیصد سے زیادہ امکان موجود ہے کہ بے قابو ہونے والی مصنوعی ذہانت انسانی بقا کے لیے ایک ناقابل تلافی خطرہ بن جائے گی۔ ان کے اس اقدام کے بعد دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں اور پارلیمنٹیرینز نے بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب، دنیا بھر میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا ان انتباہات کو سنجیدہ لیا جانا چاہیے یا نہیں۔ بہت سے ماہرینِ امراض اور کمپیوٹر سائنٹسٹس کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین اور ضابطے بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے آزاد چھوڑ دیا گیا، تو اس کے نتائج ہماری سوچ سے بھی زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔ قانون ساز اب ان کمپنیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی تحقیق میں سکیورٹی اور اخلاقیات کو اولین ترجیح دیں تاکہ انسانیت کو کسی بھی ممکنہ عالمی المیے سے بچایا جا سکے۔