Health
برطانیہ میں کینسر کے علاج میں تاخیر اور مریضوں کے مسائل
بی بی سی کے ایک تجزیے کے مطابق انگلینڈ میں کینسر کی دیکھ بھال کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ طویل انتظار کے باعث کئی مریضوں کی بیماری میں مزید شدت آ گئی ہے۔
برطانیہ میں کینسر کے علاج کے لیے انتظار کے طویل اوقات نے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ بی بی سی کی ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، جب سے حکومت نے کینسر کے انتظار کے اوقات کو کم کرنے اور مزید زندگیاں بچانے کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، تب سے زمینی حقائق کے مطابق صحت کی دیکھ بھال کی صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ بروقت سرجری نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، این ایچ ایس (NHS) کے اسپتالوں میں عملے کی کمی، وسائل کی قلت اور بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے مریضوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی دعووں کے باوجود اسپتالوں میں کینسر کے تشخیص اور علاج کے مقررہ اہداف پورے نہیں ہو پا رہے۔ متاثرہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
ماہرین صحت نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض میں ایک ایک دن انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ علاج میں معمولی سی تاخیر بھی مریض کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور بقا کے امکانات کو کم کر دیتی ہے۔ طبی حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک طبی عملے کی تعداد میں اضافہ اور جدید آلات کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
برطانوی حکومت اور محکمہ صحت کے حکام نے اس تجزیے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں اور اسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نئے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، زمینی سطح پر مریضوں کو درپیش مشکلات میں تاحال کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی ہے، اور عام عوام میں حکومت کی صحت سے متعلق پالیسیوں کے خلاف بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔