LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کا دایاں بازو اور روس: یوکرین جنگ پر اثرات

News Image
یورپ میں انتہائی دایاں بازو کی سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی طاقت یوکرین اور روس کے معاملے پر یورپی یونین میں مزید گہرے اختلافات کا باعث بن سکتی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں کی کامیابیوں سے خطے کے اندرونی استحکام اور خارجہ پالیسی پر شدید اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔
یورپ بھر میں انتہائی دایاں بازو (Far-right) کی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی فتوحات نے یورپی یونین کے اندر ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان سیاسی قوتوں کے ابھرنے سے یوکرین کے تنازع اور روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یورپی ممالک کے مابین پائے جانے والے اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی یورپی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں نے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے ان کا اثر و رسوخ براہ راست پالیسی سازی پر پڑ رہا ہے۔ روایتی طور پر، روس کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کے معاملے پر یورپی ممالک کی پالیسی متفقہ رہی ہے، خاص طور پر یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، انتہائی دائیں بازو کی کئی جماعتیں ماسکو کے تئیں نرم گوشہ رکھتی ہیں یا کم از کم یوکرین کو مغربی فوجی امداد کی فراہمی پر کڑی نکتہ چینی کرتی ہیں۔ اس اندرونی تقسیم سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بالواسطہ سیاسی فائدہ پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ یورپی اتحاد میں یکجہتی کا فقدان ماسکو کے خلاف دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہ جماعتیں اقتدار کے قریب یا حکومتوں کا حصہ بن رہی ہیں، یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں توازن برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یورپی رہنماؤں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اندرونی سیاسی چیلنجز سے نمٹتے ہوئے یوکرین کی حمایت میں کس طرح ایک مضبوط اور مشترکہ موقف برقرار رکھ سکیں گے۔ آنے والے مہینوں میں یورپی سیاست کا یہ رخ عالمی سطح پر نہایت اہم ثابت ہوگا۔