World
يمن میں لڑائی تیز، سعودی عرب میں الرٹ اور حوثی حملے
يمن میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب یمنی حکومت نے حوثیوں پر بچوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے جبکہ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ سعودی فورسز نے فضائی حملے کیے ہیں۔
يمن میں جاری خانہ جنگی اور تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران یمن کی تسلیم شدہ حکومت نے حوثی باغیوں پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ باغیوں کی طرف سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت متعدد افراد کی اموات واقع ہوئی ہیں، جن میں تین کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد یمنی سیاسی حلقوں اور عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تنازع کے اس تازہ ترین دور میں مخالف فریق کی طرف سے شدید عسکری کارروائیاں کی گئی ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق سعودی فورسز کی جانب سے محض بارہ گھنٹوں کے مختصر ترین وقت کے دوران چونسٹھ کے قریب فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ باغیوں کا مؤقف ہے کہ ان فضائی حملوں کے نتیجے میں یمن کے مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور عام شہریوں کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے۔ ان دعوؤں کی وجہ سے صورتحال انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ ہو چکی ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب میں بھی سکیورٹی کے حوالے سے خصوصی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا ممکنہ سرحد پار حملے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ یمن میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام تر بین الاقوامی کوششیں اس وقت جمود کا شکار نظر آتی ہیں، کیونکہ فریقین کے درمیان عسکری کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر فائر وال یا جنگ بندی کے لیے اقدامات نہ کیے گئے، تو اس تنازع کے انسانیت سوز اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔