LIVE
Loading Breaking News...

بنیامین نیتنیاہو کا ہارٹز اخبار پر ہتکِ عزت کا دعویٰ، یو اے ای وارننگ کا دعویٰ مسترد

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے 7 اکتوبر کے حملوں سے پہلے انہیں حماس کے منصوبوں سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے اخباری رپورٹ شائع کرنے والے ادارے ہارٹز کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو نے ملک کے معروف اخبار 'ہارٹز' (Haaretz) کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی اور ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم اس میڈیا رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے کچھ عرصہ قبل اسرائیلی قیادت کو مبینہ طور پر حماس کے خطرناک عزائم اور ممکنہ حملے کے حوالے سے باقاعدہ خبردار کیا تھا۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور نیتنیاہو حکومت پر سکیورٹی غفلت کے الزامات میں مزید شدت پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور ان کے ترجمان نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس نوعیت کی کوئی پیشگی انٹیلی جنس وارننگ یا خفیہ معلومات کا تبادلہ 7 اکتوبر کے واقعات سے قبل نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے جھوٹے دعوے نہ صرف عوامی سطح پر گمراہ کن فضا پیدا کرتے ہیں بلکہ ملک کی موجودہ جنگی صورتحال اور حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش بھی ہیں۔ ہارٹز اخبار نے اپنی رپورٹ میں کچھ نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اماراتی حکام نے اسرائیلی وزیراعظم کو حماس کی جانب سے کسی بڑے حملے کے خطرے سے آگاہ کیا تھا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ اس تنازعے کے بعد اسرائیل کے اندرونی میڈیا اور سیاسی میدان میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا سکیورٹی اداروں اور حکومت کو ماضی میں ملنے والے اشاروں کو سنجیدگی سے لیا گیا تھا یا نہیں۔ بنیامین نیتنیاہو کے وکلاء اب ہارٹز اخبار کے خلاف عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت کی جا سکے کہ یہ خبر بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے شائع کی گئی۔ اس قانونی لڑائی کے نتیجے میں ایک بار پھر 7 اکتوبر کے انٹیلی جنس فیل اور سیکورٹی کے خغیے پہلوؤں پر بحث تازہ ہونے کا امکان ہے، جبکہ نیتنیاہو کی سیاسی بقا اور ان کے دور حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔