World
ایران کا اردن کے العزرق فوجی اڈے پر حملوں میں اضافہ، اہم وجوہات سامنے آئیں
حالیہ ہفتوں کے دوران ایران نے اردن کے مووفق السلطی ایئر بیس کو اپنے حملوں میں زیادہ نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے خطے میں سکیورٹی خد مزید بڑھا دیے ہیں۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق ایران نے اردن کے اہم فوجی اثاثوں کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ خصوصی طور پر اردن کے العزرق کے قریب واقع مووفق السلطی ایئر بیس کو حالیہ دنوں میں زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس پیشرفت نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور دفاعی ماہرین اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
مووفق السلطی ایئر بیس خطے میں اتحادی افواج اور دفاعی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ہوائی اڈے کو ماضی میں بھی اہم فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایران کی طرف سے اس مقام کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اردنی حکام اور اتحادی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے حملے دراصل خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک رسہ کشی اور پراکسی وار کا ایک نیا مظہر ہیں جو کسی بھی وقت بڑی جنگ کا روپ دھار سکتے ہیں۔
دوسری جانب، اردن کی حکومت نے اپنی فضائی حدود اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ اردنی حکام کا موقف ہے کہ ملک کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر ممکن طریقے سے ملک کے دفاع کو یقینی بنایا جائے گا۔ خطے کے دیگر ممالک نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔